دہلی ۲۴؍ نومبر(ایس او نیوز/پریس ریلیز) ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں واقع پٹیالہ ہاوس کورٹ کی خصوصی این، آئی، اے عدالت نے آج یہا ں ملک کی مختلف ریاستوں سے دہشت گردی کے الزمات اور دہشت گرد تنظیم داعش سے روابط رکھنے کے معاملے میں گرفتار کئے گئے ملزمین کے ساتھ جیل میں ہونے والے تشدد پر سخت نوٹس لیتے ہوئے جیل انتظامیہ سے خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ معاملے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے ۔
ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے آفس سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق ملزمین کی پیروی کرنے والے وکیل ایم ایس خان نے خصوصی عدالت کی جج پونم بامبا کے سامنے ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمین تہاڑ جیل میں دہشت کے سایہ میں زندگی گذار رہے ہیں کیونکہ ۲۱؍ نومبر کو جیل انتظامیہ نے ملزمین کو بلا کسی وجہ کے شدید زدوکوب کیا تھا اور اس کے بعد انہیں بجائے طبی امداد مہیا کرانے کے ان کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے
ملزمین سہیل احمد، عبید اللہ خان اور عمران احمد کی جانب سے داخل عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے خصوصی جج نے جیل انتظامیہ سے اس معاملے میں فوراً کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیئے ہیں، نیز جیل انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سیکوریٹی کے نام پر ملزمین کے ساتھ زیادتی نہ کرے۔
اس تعلق سے ایڈوکیٹ ایم ایس خان نے بتایا کہ دہشت گردی کا سامنا کرنے والے ۲۶؍ مسلم نوجوانوں کو جنہیں تہاڑ جیل کے ہائی سیکوریٹی سیل میں رکھا گیا ہے کے ساتھ پولس عملہ نے زیادتیاں کی ہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً اذیتیں دی جاتی رہی ہیں لیکن ۲۱؍ نومبر کو معاملہ اس وقت بڑھ گیا جب متذکرہ ملزمین کے ساتھ مار پیٹ کی گئی جس کی فوراً شکایت عدالت سے کی گئی جس کے بعد عدالت نے جیل عملہ سے رپورٹ طلب کی ہے ۔
ایڈوکیٹ ایم ایس خا ن نے بتایا کہ جیل میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے معاملات کے وقت وہ کام کرنا بند کردیتے ہیں یا انہیں جان بوجھ کر بند کردیا جاتا ہے، انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اُس کی بھی جانچ کی جائے۔
واضح رہے کہ داعش کے معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) نے ملک کے مختلف صوبوں سے ۱۷؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جنہیں عدالتی تحویل میں بھیجا جاچکا ہے ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی جاچکی ہے۔
اس موقع پر ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی صدر مولانا ارشد مدنی نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی خصوصی این آئی اے عدالت کی آج کی کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بر وقت کارروائی انصاف کی پہلی شرط ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ جیل میں رہنے والا شخص عدالت کی تحویل میں ہوتا ہے جہاں اس کے ساتھ تھرڈ ڈگری یا تشدد کا تصور بھی نہیں کیا جانا چاہئے لیکن جیل انتظامیہ میں موجود کچھ کالی بھیڑیں اپنی متعصب ذہنیت کے سبب قانون اورآئین کی دھجیاں اڑا دینے کے درپے ہیں ۔ایسے میں خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کئے جانے کا حکم عدالت کا منصفانہ قدم ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند اس پورے معاملے پر نظررکھے ہوئے ہے اورحصول انصاف کے لئے بالائی عدالت کے دروازہ کو بھی ضرورت پڑنے پر کھٹکھٹایا جائے گا۔
اُدھر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمین کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ تشویش ناک ہے اور ان کی یہ کوشش ہوگی کہ خاطیوں کے خلاف کارروائی ہو تاکہ مستقبل میں پھر ایسا واقعہ رو نما نہ ہونے پائے۔
گلزاراعظمی نے کہا کہ معاملے کی جلد از جلد سماعت شروع کیئے جانے کے تعلق سے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیئے جانے کی تیاری جاری ہے اور جلد ہی ایڈوکیٹ ایم ایس خان اس تعلق سے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے والے ہیں۔